تحریر: علامہ طلال علی مہدوی
حوزہ نیوز ایجنسی| وہ بیانیہ جس کے تحت امریکہ خود کو محض اسرائیل کی سلامتی کا ضامن اور ایک متوازن "امن" کا علمبردار ظاہر کرتا ہے، متعدد تجزیہ کاروں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی مبصرین کی جانب سے کڑی تنقید کا نشانہ بن رہا ہے۔ ناقدین کے نزدیک یہ سفارتی لبادہ دراصل ان گہری اور منظم پالیسیوں کو چھپانے کی ایک کوشش ہے جو اسرائیل کی متنازع سرگرمیوں، بالخصوص مقبوضہ علاقوں میں بستیوں کی توسیع اور فوجی کارروائیوں کو دوام بخشتی ہیں۔
سرکاری رپورٹس اور دستاویزی تاریخ کی روشنی میں کیا جانے والا یہ مفصل تجزیہ ان طریقہ کار کا احاطہ کرتا ہے جن کے ذریعے اسرائیل کو مسلسل فوجی امداد، سفارتی تحفظ اور معاشی تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔
1۔ مالیاتی شہ رگ: غیر مشروط فوجی امداد
اسرائیلی دفاعی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے کے لیے واشنگٹن کے پختہ عزم کا سب سے ٹھوس ثبوت 'فارن ملٹری فنانسنگ' (FMF) کی صورت میں بہنے والا امداد کا وہ سیلاب ہے جس میں کبھی تعطل نہیں آیا۔ اگرچہ اس امداد کو اسرائیل کی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دیا جاتا ہے، تاہم دستاویزی شواہد بتاتے ہیں کہ یہی فنڈز خطے میں اسرائیل کے فوجی غلبے اور اس کی مسلسل عسکری کارروائیوں کا اصل ایندھن ہیں۔
سرکاری معاہدے (MOU): اس تعاون کی بنیاد 10 سالہ مفاہمت کی یاداشت (MOU) پر قائم ہے۔ موجودہ معاہدے (مالی سال 2019 تا 2028) کے تحت امریکہ سالانہ کم از کم 3.8 بلین ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرنے کا پابند ہے (جس میں 3.3 بلین ڈالر کی براہِ راست گرانٹس اور میزائل ڈیفنس پروگرام کے لیے 500 ملین ڈالر شامل ہیں)۔
حوالہ: 'کانگریشنل ریسرچ سروس' (CRS) کی رپورٹ "اسرائیل کے لیے امریکی غیر ملکی امداد: جائزہ اور پیش رفت" (RL33222) کے مطابق، امریکہ اب تک اسرائیل کو مجموعی طور پر 174 بلین ڈالر سے زائد کی دوطرفہ امداد اور میزائل ڈیفنس فنڈنگ فراہم کر چکا ہے۔
پابندیوں میں استثنا: اس امداد کی ایک نمایاں خصوصیت وہ خصوصی رعایت ہے جو اسرائیل کو اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ وہ اپنی فوجی امداد کا ایک حصہ (موجودہ معاہدے کے ابتدائی برسوں میں 26.3 فیصد تک) امریکی مصنوعات کے بجائے خود اسرائیل کی تیار کردہ دفاعی اشیاء پر خرچ کر سکے۔ یہ ایک غیر معمولی رعایت ہے جس نے اسرائیل کی مقامی دفاعی صنعت کو بے پناہ استحکام بخشا ہے۔
ہنگامی اضافی فنڈز: طے شدہ مفاہمت کی یادداشت سے ہٹ کر، امریکی کانگریس اکثر و بیشتر ہنگامی ضمنی بجٹ منظور کرتی ہے، خاص طور پر مسلح تنازعات کے دوران، تاکہ اسرائیل کے دفاعی ذخائر کو دوبارہ بھرنے اور 'آئرن ڈوم' جیسے نظاموں کو مستحکم کیا جا سکے۔
2۔ سفارتی ڈھال: بین الاقوامی احتساب سے تحفظ
امریکی پشت پناہی محض مالی امداد تک محدود نہیں، بلکہ اس کا ایک اہم ستون بین الاقوامی فورمز، بالخصوص اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل کو حاصل غیر متزلزل سفارتی تحفظ ہے۔ امریکہ نے دہائیوں سے درجنوں ایسی قراردادوں کو ویٹو کیا ہے جن میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کی مذمت یا بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ "سفارتی ڈھال" اسرائیل کو ان پالیسیوں کو جاری رکھنے کا حوصلہ دیتی ہے جنہیں عالمی برادری کی اکثریت غیر قانونی تصور کرتی ہے۔
3۔ معاشی انضمام اور تجارتی مراعات
امریکہ اور اسرائیل کے درمیان معاشی تعلقات کو اس طرح استوار کیا گیا ہے کہ وہ سیاسی اور عسکری پالیسیوں کو تقویت فراہم کرتے ہیں۔ 1985 میں دستخط ہونے والا "آزادانہ تجارت کا معاہدہ" (FTA) امریکہ کا کسی بھی ملک کے ساتھ پہلا ایسا معاہدہ تھا۔ اس نے اسرائیلی معیشت کو امریکی منڈیوں میں وہ رسائی دی جس سے اسرائیل کی دفاعی اور تکنیکی صنعت کو براہِ راست فائدہ پہنچا۔ اس کے علاوہ، بستیوں میں تیار کردہ مصنوعات پر امریکی پالیسی کا نرم رویہ ان بستیوں کی معاشی بقا کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
حاصلِ کلام
مذکورہ حقائق اس نتیجے کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ واشنگٹن کی جانب سے "امن" کی گفتگو محض ایک بیانیہ ہے، جبکہ عملی طور پر امریکی مشینری اسرائیل کو وہ تمام وسائل اور تحفظ فراہم کر رہی ہے جو موجودہ جمود کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔ جب تک فوجی امداد اور سفارتی تحفظ کو بین الاقوامی قوانین کی پاسداری سے نہیں جوڑا جاتا، تب تک امریکہ کی "منصفانہ ثالث" کی حیثیت پر سوالات اٹھتے رہیں گے۔









آپ کا تبصرہ